بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔۔۔وبعد!۔
فرمان علی ہجویری!۔
یہ وہ بزرگ ہیں جو غزنی (افغانستان) سے بسلسلہ تبلیغ لاہور تشریف لائے تھے لاہور ہی میں دفن ہوئے ان کے مزار پر اکثر لوگ غیر شرعی اور غیر اخلاقی حرکات کرتے ہیں اور ان سے کئی اُمیدیں باندھتے ہیں وہ اپنی مشہور کتاب (کشف الاسرار) میں اپنے آپ کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں!۔
اے علی! لو تجھ کو گنج بخش کہتے ہیں مگر تیرے پاس کسی کو دینے کے لئے کوڑی بھی نہیں تو اس پر فخر نہ کر کیونکہ گج بخش اور رنج بخش صرف اللہ کی ذات ہے۔۔۔
مگر اس قوم کا کیا ہوگا جو اصل داتا اور گنج بخش کو ان بزرگوں کو داتا اور گنج بخش کہہ کر ان کی روحوں کو دُکھ دیتے ہیں یقینا قیامت کے روز اللہ ان سے جواب طلبی کرے گا ایک کاروبار کی خاطر یہ تمام سلسلہ چلا دیا گیا علامہ اقبال کھری کھری بات کہنے کے عادی تھے اور کیا کھری بات کہہ گئے ہیں۔۔۔
جن کو آتا نہیں دنیا میں کوئی فن تم ہو
نہیں جس قوک کو پروائے نشیمن تم ہو
بجلیاں جس میں ہوں آسودہ وہ خرمن تم ہو
بیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن تم ہو
ہو نکو نام جو قبروں کی تجارت کر کے
کیا نہ بیچو گے جو مل جائیں صنم پتھر کے؟۔
وسلام