فہم انسانی کی فضلیت
اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔۔۔وبعد!۔
جانوروں کا جہاں سے دل چاہتاہے، کھا پی لیتے ہیں۔ کھیت کسی کا ہو، چر لیتے ہیں۔ پیشاب، پاخانہ کرنے میں انہیں موقع و محل کا لحاظ نہیں ہوتا۔ وہ اپنی دوسری ضرورتیں بھی ایسے ہی پوری کر لیتے ہیں۔
دوسری طرف انسان ہر کام دیکھ بھال کر کرتا ہے۔ کھانے پینے، رفع حاجت اور زندگی کے دوسرے معمولات ایک قاعدے و ضابطے کے مطابق انجام دیتا ہے۔ ایسا اس لیے ہے کہ اسے عقل اور سمجھ جیسی دولت عطا کی گئی ہے۔ پھر بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ انسان اپنی خواہش پوری کرنے میں جائز و ناجائز کا فرق بھلا دیتا ہے۔ دوسروں کا مال ہتھیانے اور ان کی عزت پر حملہ کرنے میں اس کو شرم محسوس نہیں ہوتی۔ ماہرین حیاتیات کا کہنا ہے کہ جانوروں کی زندگی بھی ان خاص اصولوں اور رجحانات کے تابع ہوتی ہے جو اللہ تعالی نے ان کی فطرت میں راسخ کر دیئے ہیں۔ لیکن انسان کو آزادی ملی ہوئی ہے کہ وہ اپنے مقام و مرتبے پر قائم رہے یا اس سے گر کر حیوانی سطح پر آجائے۔ جب تک انسان ہوش و حواس میں ہوتا ہے اسے خبر ہوتی ہے کہ وہ انسانی شرف کا پاس کر رہا ہے یا اپنے مقام سے گر چکا ہے۔ لہذا عقل اور سمجھ ہی ایسی چیز ہے جو انسانوں اور جانوروں میں تفریق کر تی ہے۔
اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ہم نے جہنم میں بسنے کے لیے کئی جن اور انسان پیدا کئے ہیں۔ اس لیے کہ ان کے دل تو ہیں مگر وہ ان سے احساس اور سمجھ کا کام نہیں لیتے۔ ان کی آنکھیں ہیں لیکن وہ ان سے بینائی کا کام نہیں لتیے۔ ان کے کان تو ہیں پر وہ ان سے سن کر نہیں دیتے۔ یہ چوپایوں کی مانند ہیں بلکہ ان سے بڑھ کر گمراہ ہیں یہی لوگ ہیں جو بالکل بے خبر ہیں۔ سورہ الاعراف
ہم پر لازم ہے کہ قدرت کے اس قیمتی عطیے "سوجھ بوجھ" کو کام میں لائیں۔ اگر کوئی بات خود سمجھ میں نہیں آتی تو ان لوگوں سے پوچھ لیں جو ہمیں زیادہ سمجھدار اور عقلمند دکھائی دیتے ہیں۔
وسلام۔۔۔
٭٭٭