![]() |
| |||||||
| Notices |
| |
Geo News Watch Live Sms Messages Collection! ChatDD Blog Tech & Entertainment
|
![]() |
| | Thread Tools | Display Modes |
|
#1
| ||||
| ||||
| افواہ سازی کی صنعت انسان زندگی میں استعمال ہونے والی مختلف مادی چیزوں کی تیاری کے لیے لوہے کے کل پرزوں کو جوڑ کر بڑے بڑے کا رخانوں کی تیاری اور پھر مختلف اشیاء کا بنایا جانا روزمرہ کا معمول ہے۔ شکر سازی، کاغذ سازی اور اسی طرح کے وہ مختلف نوع کارخانے جنھیں ہم اپنی دیکھتی آنکھوں سے شب و روز مصروف عمل دیکھتے ہیں۔ اسی طرح کا ایک کارخانہ جو بظاہر انسانی زندگی کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتا، جس کو بنانے اور گھڑنے کے لیے ہم اپنی دیکھتی آنکھوں سے چلتا اور سنتے کانوں سے اس کے چلنے کی آواز نہیں سن سکتے لیکن اس بظاہر غیر مرئی مگر انسانی زندگی پر ہولناک اثرات مرتب کرنے والی اس چیز کے لیے دنیا میں بڑے بڑے کارخانے مصروف کار ہیں۔ مختلف اقوام اس بظاہر بے ضرر سی جنس کی تیاری کے لیے کروڑوں نہیں بلکہ اربوں ڈالر خرچ کرتی نظر آتی ہیں۔ انسانی زندگی پر اس کے اثرات کا اندازہ قوموں کی تباہی، افراد کی بے عملی، اعصابی تناؤ سے پیدا ہونے والی لا علاج بیماریوں سے لگایا جا سکتا ہے اور معاشرے میں پیدا کردہ انتشار تو اس کی واضح مثال ہے۔ میری مراد۔ "افواہ سازی" سے ہے۔ افواہ کیا ہے؟ اس کا جواب جاننے کے لیے ہمیں افواہ کے اثرات پر نظر ڈالنا پڑے گی عموماً معاشرے یا معاشرے کے کسی طبقے میں کشیدگی افواہوں کو جنم دیتی ہے خاص طور پراس وقت جب ماحول کے بارے میں صحیح معلومات حاصل کرنے کا کوئی معتبر ذریعہ نہ ہو۔ ایسے معاشرے جن میں اخبارات، ریڈیو اور ٹی وی کی خبریں سنسر ہوں لوگوں کے ذہن میں شکوک پیدا کرنے کا باعث بنتی ہیں اور انہی شکوک کی کوکھ سے افواہیں جنم لیتی ہیں۔ "افواہ سازی" کی تعریف یوں کی جا سکتی ہے کہ باہمی گفتگو کے ذریعے سے خبروں کی ترسیل بعض اوقات ایک عمل کو جنم دیتی ہے جسے "افواہ سازی" کہتے ہیں۔ دراصل افواہ ایک غیر مصدقہ خبر یا واقعہ ہوتی ہے جو معاشرے میں سینہ بہ سینہ سفر کرتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اس میں سچ کا عنصر بھی ہو لیکن یہ بات بھی ممکن ہے کہ یہ کلی طور پر جھوٹی اور من گھڑت ہے۔ ایک سوال جو ذہن میں اٹھتا ہے کہ کیا افواہ ہمیشہ جھوٹی خبر ہوتی ہے؟ اس کا جواب یوں دیا جا سکتا ہے کہ یہ ہمیشہ جھوٹی خبر نہیں ہوتی البتہ اس کی سچائی کی جانچ پڑتال ضروری ہے۔ نہ جاننے سے جاننا ایک اچھا عمل ہے اس جاننے کے لیے یا یوں سمجھیے کہ خود کو حالات سے باخبر رکھنے کے لیے افراد بہت سی باتوں پر یقین کر لیتے ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ فرد جب کوئی مبہم اور غیر واضح واقعہ دیکھتا ہے تو باقی اپنے پاس سے مکمل کر لیتا ہے۔ اس میں حقائق کے بجائے ذاتی خوف، خواہشات اور قیاس آرائی ہوتی ہے۔ یہی بات جب خبر کی صورت میں ایک سے دوسرے اور پھر تیسرے فرد تک پہنچتی ہے تو ہر فرد اس میں اپنے ذاتی خدشات، خیالات اور تجربات شامل کر لیتا ہے اور وہی حقیقی غیر مبہم واقعہ افواہ کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ افواہیں ذہنی کم مائیگی اور اخلاقی گراوٹ کا مظہر ہوتی ہیں اور مجموعی طور پر اضطراب اور نقصان کا باعث بنتی ہیں۔ اسی لیے قرآن مجید میں بھی افواہیں تراشنے، ان کی اشاعت اور انھیں بلا تامل تسلیم کر لینے سے اخلاقی اور معاشرتی مسائل سے خبردار کیا ہے۔ ہر سوسائٹی میں ایسے سفلہ مزاج لوگ موجود ہیں جن کا محبوب مشغلہ بے پرکی اڑانا اور افواہیں پھیلانا ہوتا ہے۔ ایسی افواہیں خاندانوں، قبیلوں، بسا اوقات قوموں کی تباہی کا پیش خیمہ ہوتی ہیں۔ سورہ حجرات آیت نمبر6 میں ہے: "اے ایمان والو! اگر لے آئے تمھارے پاس کوئی فاسق کوئی خبر تو اس کی خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم ضرر پہنچاؤ کسی قوم کو بے علمی میں پھر تم اپنے کیے پر پچھتانے لگو۔" اسی طرح حدیث نبویۖ ہے "اس شخص کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات بلا تحقیق آگے کرتا پھرے۔" اس آیت میں اﷲ تعالی نے بڑی سختی سے ہدایت فرمائی ہے کہ خبردار! کوئی فاسق اور بدکار تمھارے پاس کوئی اہم خبر لائے تو اس کو فوراً قبول نہ کرو، نہ ہی آگے کسی سے کہو، ہو سکتا ہے کہ وہ جھوٹ بکتا ہو اور اس خبر سے مشتعل ہو کر کوئی کارروائی کر بیٹھے جس کے خطرناک اور خوف ناک نتائج مرتب ہوں اور پھر ساری عمر فرط ندامت سے کف افسوس ملتے گزر جائے۔ اس لیے جب کوئی خبر تمھارے کانوں تک پہنچے تو اسے بے تحقیق تسلیم کر لینا قطعاً قرین دانش مندی نہیں ہے۔ پہلے اس کی چھان پھٹک کر لو اور پھر مناسب قدم اٹھاؤ۔ افواہیں خود بخود کم پھیلتی ہیں۔ عموماً ان کے پس پردہ کسی مخصوص فرد، گروہ یا ادارے کی پشت پناہی ہوتی ہے۔ افواہ کے پھیلنے اور ان کی اشاعت کے عمل کو سمجھنے کے لیے نہایت ضروری ہے کہ پہلے اس بات پر غور کیا جائے کہ ان کے پھیلنے میں کون سے عناصر شامل ہیں کیوں کہ انہی عناصر کے باعث افواہوں کو جنم لینے اور ان کو گردش کا موقع ملتا ہے۔ جہالت وہ افراد اور معاشرہ جہاں جہالت کا دور دورہ ہو افواہیں بہت جلد پھیلتی ہیں اور اثرات چھوڑتی ہیں۔ وہ افراد یا معاشرہ جو پڑھا لکھا ہو وہاں افواہیں پھیلنے کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں۔ غیر معمولی حالات غیر معمولی حالات(Crisis) مثلاً جنگ، سیلاب، الیکشن وغیرہ میں افواہیں بہت جلد پھیلتی ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہیں۔ تصدیق کا نہ ہونا وہ افواہیں جن کی تصدیق کے موثر ذرائع نہ ہوں۔ بہت جلد معاشرے میں پھیلتی ہیں اور متاثر کرتی ہیں۔ معاشرے پر افواہوں کے اثرات کو سمجھنے کے لیے افواہوں کی قسموں کو سمجھنا لازمی ہے۔ افواہوں کی چیدہ چیدہ اقسام یہ ہیں۔ جنگی افواہیں ایسی افواہیں عموماً دشمن یا اس کے ایجنٹ پیدا کرتے اور پھیلاتے ہیں ان کا مقصد عوام میں بے چینی پیدا کرنا اور فوجی حکمت عملی کا رخ بدلنا ہے۔ سیاسی افواہیں یہ افواہیں اکثر و بیشتر سیاستدان اپنے مخصوص مفادات حاصل کرنے کے لیے پھیلاتے ہیں یا حکومت موجودہ سیاسی صورت حال اور سیاسی فضا کو اپنے قابو میں رکھنے اور حالات کو اپنے حق میں سازگار بنانے کے لیے پھیلاتی ہے۔ مذہبی افواہیں یہ افواہیں مختلف مذاہب یا بعض اوقات ایک ہی مذہب کے مختلف عقیدوں سے تعلق رکھنے والے پھیلاتے ہیں۔ افواہیں نہایت سوچ سمجھ کر تراشی جاتی ہیں۔ ان میں نفسیاتی حربے استعمال کیے جاتے ہیں۔ اس لحاظ سے انھیں نفسیاتی ہتھیار بھی کہا جاتا ہے کیوں کہ دراصل ان سے کام ہی ہتھیار کا لیا جاتا ہے۔ اگر کسی علاقے میں سیلاب آئے تو لوگ متاثر ہوتے ہیں، اگر کہیں بم پھٹ جائے تو لوگ متاثر ہوتے ہیں۔ بالکل اسی طرح افواہ کا مقصد بھی لوگوں کو متاثر کرنا ہوتا ہے ان میں اس خاص طبقے (جس نے افواہ پھیلائی ہو) کی سوچ پیدا کرنا ہے تاکہ ان کے مقاصد کے حصول میں کوئی رکاوٹ نہ پڑے۔ عموماً افواہیں کیوں پھیلتی ہیں؟ کون پھیلاتا ہے؟ ان کے کیا فائدے ہوتے ہیں اور کیا نقصانات ہیں؟ ان سے کیا مقاصد حاصل کیے جاتے ہیں؟ ان تمام پہلوؤں پر گفتگو کرنے کے لیے معاشرے کی موجودہ صورت حال کا جائزہ لینا ضروری ہوتا ہے کیوں کہ آخر افواہ اسی معاشرے میں جنم لیتی ہے، سفر کرتی ہے اور اسی معاشرے پر اس کے اثرات پڑتے ہیں۔ افواہیں پھیلتی کیسے ہیں؟ یعنی افواہوں کے پھیلاؤ کے ذرائع کون کون سے ہیں؟ عموماً ان میں سب سے بڑا ذریعہ اخبارات، رسالے اور کتابیں ہیں اور دوسرا بڑا ذریعہ ریڈیو اور ٹی وی ہیں۔ اب انٹرنیٹ بھی اس عمل کے لیے ایک اہم آلہ کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔ مختصر یہ کہ ذرائع ابلاغ افواہیں پھیلانے میں بہت بڑا کردار ادا کرتے ہیں۔ بسا اوقات حکومتوں کے ڈس انفارمیشن سیل (DisinformationCell) بھی افواہ سازی کا کام کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اکثر حکومتیں اپنی بقا کے لیے اپنے مخالفین کے بارے میں اور لوگوں میں اپنی مخالفت کو کم کرنے کے لیے طرح طرح کی خبریں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اسی سیل(Cell)کے ذریعے گھڑ گھڑ کر لوگوں تک پہنچاتے ہیں۔ اس کے ذریعے سے حکومت عوام میں بے چینی اور اضطراب پھیلانے کا باعث بنتی ہے۔ یہ ڈس انفارمشن سیل (Disinformation Cell) باقاعدہ پلاننگ کے تحت افواہ گھڑتے ہیں اور پھر اس افواہ کو پھیلانے سے پہلے اس کے اثرات کے بارے میں غور کرتے ہیں کہ کیا یہ عوام پر اثر انداز بھی ہوگی یا نہیں۔ یہ طریقہ کار اس قدر منظم ہے کہ لوگوں کو یہ یقین دلا دیا جاتا ہے کہ یہ افواہ سچی ہے۔ دراصل ان ڈس انفامیشن سیل کے ذریعے سے حکومتیں اپنے مخصوص مفادات اور مقاصد حاصل کرتی ہیں۔ بیوروکریسی کا ادارہ بھی بعض اوقات افواہ سازی میں شامل پایا گیا ہے۔ خاص طور پر غیرمعمولی حالات تو بیوروکریسی کے لیے نہایت مددگار ہوتے ہیں بیوروکریسی کے ادارے پر کوئی دباؤ نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کے راہ میں جلد کوئی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے اور وہ اس سے پورا پورا فائدہ اٹھاتا ہے۔ بعض اوقات حکومتیں اپنی خارجہ یا داخلہ پالیسی کی وجہ سے باقاعدہ پلاننگ کے تحت افواہ سازی کا کام انجام دیتی ہیں۔ بعض اوقات دشمن بھی ڈس انفارمیشن سیل کے ذریعے سے افواہیں پھیلاتے ہیں اور اپنے مخصوص مقاصد حاصل کرتے ہیں خاص طور پر جنگی حالات میں تو دشمن کی حکمت عملی (Strategy) ہی یہ ہوتی ہے کہ کس طرح دشمن کی صفوں میں بے چینی اور اضطراب پھیلا کر کامیابی حاصل کی جائے اور عوام کے حوصلے پست ہو جائیں اور انھیں آگے بڑھنے میں مشکلات کا سامنا نہ ہو۔ اس قسم کی ایک مثال 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں لاہور پر بھارتی قبضے کی افواہ ہے۔ دشمن نے اپنے تمام ذرائع ابلاغ اور تمام تر قوت استعمال کر کے ایک خبر کی تشہیر اس انداز سے کی کہ بی۔ بی۔ سی (B.B.C)جیسے حساس اور موثر ذریعے نے بھی یہ خبر نشر کر دی کہ "بھارتی فوج نے لاہور پر قبضہ کر لیا ہے۔" ذرا تصور کیجئے اس خبر نے اس وقت جانے کتنے لوگوں کے اعصاب شل کیے ہوں گے۔ ذرا اندازہ لگائیے اس ذہنی کیفیت کا جس سے پاکستانی عوام کو گزرنا پڑا۔ دشمن نے کس قدر چالاکی سے اس افواہ کی خبر بنائی۔ یہ سب صرف اور صرف اسی سیل(Cell)کی وجہ سے ممکن ہو سکا۔ ڈس انفارمیشن سیل کے بیرونی رابطے بھی ہوتے ہیں۔ یہ سیل حکومتوں، سیاسی جماعتوں اور خفیہ ایجنسیوں کے لیے کام کرتے ہیں۔ حکومتوں کے قائم کردہ جاسوسی اداروں کا کام افواہ سازی بھی ہوتا ہے۔ حکومت کے ایما پر اپنی کارکردگی کی خاطر یہ ادارے افواہیں پھیلاتے ہیں۔ گذشتہ دنوں مرغیوں میں برڈ فلو کی بیماری اور آٹے کی قلت جیسی اہم افواہیں گردش میں رہیں، مرغی میں برڈ فلو کی بیماری والی افواہ نے تو پولٹری فارمنگ کی صنعت کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا اور کمال تو یہ ہوا کہ ہمارے حکومتی ادارے بھی ابتدا میں اس افواہ کی تصدیق کے عمل کا ایک پرزہ بنتے گئے۔ اسی طرح آٹے کی قلت کی افواہ نے بلیک مارکیٹنگ کرنے والوں کے وارے کے نیارے کر دیے۔ آٹے کی قیمت میں10.5روپے سے 14.5 روپے تک کا اضافہ ہوگیا اور صورت حال واضح ہونے پر قیمتیں پھر اپنی اصل جگہ پر لوٹ آئیں۔ یہی حال دیگر بہت سی اشیائے خوردونوش کا ہے۔گویا معاشی فوائد یا معاشی مسابقت بھی افواہیں پھیلانے کا ایک مؤثر ذریعہ بنتے ہیں۔ اگر گھنے جنگل میں کسی درخت کو آگ لگا دی جائے تو یہ آگ دیکھتے ہی ایک سے دوسرے اور پھر تیسرے درخت سے ہوتی ہوئی پورے کے پورے جنگل کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ بالکل یہی مثال افواہ کی ہے۔ افواہ بھی جنگل کی آگ کی طرح پورے کے پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ میکیاویلی سیاست کے اس دور جدید میں کہ جب نہ صرف افراد بلکہ پوری کی پوری قومیں بھی "جھوٹ کو اتنا پھیلاؤ کہ وہ سچ معلوم ہونے لگے" کے "نسخہ کیمیا" پر عمل پیرا ہوں، یہ صنعت یعنی "صنعت افواہ سازی" اپنے پورے عروج پر ہے۔ افواہ پھیلا کر فرد یا قوم اگرچہ اپنے مخصوص مقاصد حاصل کر کے خوشی اور مسرت کا اظہار کرتی ہیں۔ لیکن دراصل یہ اخلاقی گراوٹ، اپنے مقصد کے سچے نہ ہونے کا یقین کا درجہ رکھتی ہے۔ اس عمل سے ایک طرف ایک انسان کے اندر جھوٹ اپنی جڑیں گہری کرتا چلا جاتا ہے جو بالآخر دل زندہ کو دل مردہ میں تبدیل کرنے کا سبب بن جاتا ہے اور اس طرح بالآخر افواہ پھیلانے والا فرد، گروہ یا قوم اخلاقی پستی کے اس درجہ پر پہنچ جاتی ہے، جہاں سے اس کا زوال شروع ہو جا تا ہے۔
__________________ ![]() ![]() |
| Sponsored Links |
| |
![]() |
| Bookmarks |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| Thread Tools | |
| Display Modes | |
| |