Chat DD Forums

Go Back   Chat DD Forums > General Forums > Religions

Notices



Geo News Watch Live Sms Messages Collection! ChatDD Blog Tech & Entertainment

Get a free eMail @chatdd.com, works on MSN Messenger
Reply

** افواہ سازی کی صنعت **

 
Thread Tools Display Modes
  #1  
Old 01-30-2007, 09:22 AM
Kartos Khan's Avatar
DD Member
 
Join Date: Nov 2006
Posts: 45
Thanks: 0
Thanked 0 Times in 0 Posts
Default ** افواہ سازی کی صنعت **

افواہ سازی کی صنعت




انسان زندگی میں استعمال ہونے والی مختلف مادی چیزوں کی تیاری کے لیے لوہے کے کل پرزوں کو جوڑ کر بڑے بڑے کا رخانوں کی تیاری اور پھر مختلف اشیاء کا بنایا جانا روزمرہ کا معمول ہے۔ شکر سازی، کاغذ سازی اور اسی طرح کے وہ مختلف نوع کارخانے جنھیں ہم اپنی دیکھتی آنکھوں سے شب و روز مصروف عمل دیکھتے ہیں۔ اسی طرح کا ایک کارخانہ جو بظاہر انسانی زندگی کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتا، جس کو بنانے اور گھڑنے کے لیے ہم اپنی دیکھتی آنکھوں سے چلتا اور سنتے کانوں سے اس کے چلنے کی آواز نہیں سن سکتے لیکن اس بظاہر غیر مرئی مگر انسانی زندگی پر ہولناک اثرات مرتب کرنے والی اس چیز کے لیے دنیا میں بڑے بڑے کارخانے مصروف کار ہیں۔ مختلف اقوام اس بظاہر بے ضرر سی جنس کی تیاری کے لیے کروڑوں نہیں بلکہ اربوں ڈالر خرچ کرتی نظر آتی ہیں۔ انسانی زندگی پر اس کے اثرات کا اندازہ قوموں کی تباہی، افراد کی بے عملی، اعصابی تناؤ سے پیدا ہونے والی لا علاج بیماریوں سے لگایا جا سکتا ہے اور معاشرے میں پیدا کردہ انتشار تو اس کی واضح مثال ہے۔ میری مراد۔ "افواہ سازی" سے ہے۔



افواہ کیا ہے؟ اس کا جواب جاننے کے لیے ہمیں افواہ کے اثرات پر نظر ڈالنا پڑے گی عموماً معاشرے یا معاشرے کے کسی طبقے میں کشیدگی افواہوں کو جنم دیتی ہے خاص طور پراس وقت جب ماحول کے بارے میں صحیح معلومات حاصل کرنے کا کوئی معتبر ذریعہ نہ ہو۔ ایسے معاشرے جن میں اخبارات، ریڈیو اور ٹی وی کی خبریں سنسر ہوں لوگوں کے ذہن میں شکوک پیدا کرنے کا باعث بنتی ہیں اور انہی شکوک کی کوکھ سے افواہیں جنم لیتی ہیں۔



"افواہ سازی" کی تعریف یوں کی جا سکتی ہے کہ باہمی گفتگو کے ذریعے سے خبروں کی ترسیل بعض اوقات ایک عمل کو جنم دیتی ہے جسے "افواہ سازی" کہتے ہیں۔ دراصل افواہ ایک غیر مصدقہ خبر یا واقعہ ہوتی ہے جو معاشرے میں سینہ بہ سینہ سفر کرتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اس میں سچ کا عنصر بھی ہو لیکن یہ بات بھی ممکن ہے کہ یہ کلی طور پر جھوٹی اور من گھڑت ہے۔



ایک سوال جو ذہن میں اٹھتا ہے کہ کیا افواہ ہمیشہ جھوٹی خبر ہوتی ہے؟ اس کا جواب یوں دیا جا سکتا ہے کہ یہ ہمیشہ جھوٹی خبر نہیں ہوتی البتہ اس کی سچائی کی جانچ پڑتال ضروری ہے۔ نہ جاننے سے جاننا ایک اچھا عمل ہے اس جاننے کے لیے یا یوں سمجھیے کہ خود کو حالات سے باخبر رکھنے کے لیے افراد بہت سی باتوں پر یقین کر لیتے ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ فرد جب کوئی مبہم اور غیر واضح واقعہ دیکھتا ہے تو باقی اپنے پاس سے مکمل کر لیتا ہے۔ اس میں حقائق کے بجائے ذاتی خوف، خواہشات اور قیاس آرائی ہوتی ہے۔ یہی بات جب خبر کی صورت میں ایک سے دوسرے اور پھر تیسرے فرد تک پہنچتی ہے تو ہر فرد اس میں اپنے ذاتی خدشات، خیالات اور تجربات شامل کر لیتا ہے اور وہی حقیقی غیر مبہم واقعہ افواہ کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔



افواہیں ذہنی کم مائیگی اور اخلاقی گراوٹ کا مظہر ہوتی ہیں اور مجموعی طور پر اضطراب اور نقصان کا باعث بنتی ہیں۔ اسی لیے قرآن مجید میں بھی افواہیں تراشنے، ان کی اشاعت اور انھیں بلا تامل تسلیم کر لینے سے اخلاقی اور معاشرتی مسائل سے خبردار کیا ہے۔ ہر سوسائٹی میں ایسے سفلہ مزاج لوگ موجود ہیں جن کا محبوب مشغلہ بے پرکی اڑانا اور افواہیں پھیلانا ہوتا ہے۔ ایسی افواہیں خاندانوں، قبیلوں، بسا اوقات قوموں کی تباہی کا پیش خیمہ ہوتی ہیں۔ سورہ حجرات آیت نمبر6 میں ہے:


"اے ایمان والو! اگر لے آئے تمھارے پاس کوئی فاسق کوئی خبر تو اس کی خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم ضرر پہنچاؤ کسی قوم کو بے علمی میں پھر تم اپنے کیے پر پچھتانے لگو۔"


اسی طرح حدیث نبویۖ ہے "اس شخص کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات بلا تحقیق آگے کرتا پھرے۔"



اس آیت میں اﷲ تعالی نے بڑی سختی سے ہدایت فرمائی ہے کہ خبردار! کوئی فاسق اور بدکار تمھارے پاس کوئی اہم خبر لائے تو اس کو فوراً قبول نہ کرو، نہ ہی آگے کسی سے کہو، ہو سکتا ہے کہ وہ جھوٹ بکتا ہو اور اس خبر سے مشتعل ہو کر کوئی کارروائی کر بیٹھے جس کے خطرناک اور خوف ناک نتائج مرتب ہوں اور پھر ساری عمر فرط ندامت سے کف افسوس ملتے گزر جائے۔ اس لیے جب کوئی خبر تمھارے کانوں تک پہنچے تو اسے بے تحقیق تسلیم کر لینا قطعاً قرین دانش مندی نہیں ہے۔ پہلے اس کی چھان پھٹک کر لو اور پھر مناسب قدم اٹھاؤ۔



افواہیں خود بخود کم پھیلتی ہیں۔ عموماً ان کے پس پردہ کسی مخصوص فرد، گروہ یا ادارے کی پشت پناہی ہوتی ہے۔ افواہ کے پھیلنے اور ان کی اشاعت کے عمل کو سمجھنے کے لیے نہایت ضروری ہے کہ پہلے اس بات پر غور کیا جائے کہ ان کے پھیلنے میں کون سے عناصر شامل ہیں کیوں کہ انہی عناصر کے باعث افواہوں کو جنم لینے اور ان کو گردش کا موقع ملتا ہے۔



جہالت


وہ افراد اور معاشرہ جہاں جہالت کا دور دورہ ہو افواہیں بہت جلد پھیلتی ہیں اور اثرات چھوڑتی ہیں۔ وہ افراد یا معاشرہ جو پڑھا لکھا ہو وہاں افواہیں پھیلنے کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں۔



غیر معمولی حالات


غیر معمولی حالات(Crisis) مثلاً جنگ، سیلاب، الیکشن وغیرہ میں افواہیں بہت جلد پھیلتی ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہیں۔



تصدیق کا نہ ہونا


وہ افواہیں جن کی تصدیق کے موثر ذرائع نہ ہوں۔ بہت جلد معاشرے میں پھیلتی ہیں اور متاثر کرتی ہیں۔


معاشرے پر افواہوں کے اثرات کو سمجھنے کے لیے افواہوں کی قسموں کو سمجھنا لازمی ہے۔ افواہوں کی چیدہ چیدہ اقسام یہ ہیں۔



جنگی افواہیں


ایسی افواہیں عموماً دشمن یا اس کے ایجنٹ پیدا کرتے اور پھیلاتے ہیں ان کا مقصد عوام میں بے چینی پیدا کرنا اور فوجی حکمت عملی کا رخ بدلنا ہے۔



سیاسی افواہیں


یہ افواہیں اکثر و بیشتر سیاستدان اپنے مخصوص مفادات حاصل کرنے کے لیے پھیلاتے ہیں یا حکومت موجودہ سیاسی صورت حال اور سیاسی فضا کو اپنے قابو میں رکھنے اور حالات کو اپنے حق میں سازگار بنانے کے لیے پھیلاتی ہے۔



مذہبی افواہیں


یہ افواہیں مختلف مذاہب یا بعض اوقات ایک ہی مذہب کے مختلف عقیدوں سے تعلق رکھنے والے پھیلاتے ہیں۔



افواہیں نہایت سوچ سمجھ کر تراشی جاتی ہیں۔ ان میں نفسیاتی حربے استعمال کیے جاتے ہیں۔ اس لحاظ سے انھیں نفسیاتی ہتھیار بھی کہا جاتا ہے کیوں کہ دراصل ان سے کام ہی ہتھیار کا لیا جاتا ہے۔ اگر کسی علاقے میں سیلاب آئے تو لوگ متاثر ہوتے ہیں، اگر کہیں بم پھٹ جائے تو لوگ متاثر ہوتے ہیں۔ بالکل اسی طرح افواہ کا مقصد بھی لوگوں کو متاثر کرنا ہوتا ہے ان میں اس خاص طبقے (جس نے افواہ پھیلائی ہو) کی سوچ پیدا کرنا ہے تاکہ ان کے مقاصد کے حصول میں کوئی رکاوٹ نہ پڑے۔



عموماً افواہیں کیوں پھیلتی ہیں؟ کون پھیلاتا ہے؟ ان کے کیا فائدے ہوتے ہیں اور کیا نقصانات ہیں؟ ان سے کیا مقاصد حاصل کیے جاتے ہیں؟ ان تمام پہلوؤں پر گفتگو کرنے کے لیے معاشرے کی موجودہ صورت حال کا جائزہ لینا ضروری ہوتا ہے کیوں کہ آخر افواہ اسی معاشرے میں جنم لیتی ہے، سفر کرتی ہے اور اسی معاشرے پر اس کے اثرات پڑتے ہیں۔ افواہیں پھیلتی کیسے ہیں؟ یعنی افواہوں کے پھیلاؤ کے ذرائع کون کون سے ہیں؟ عموماً ان میں سب سے بڑا ذریعہ اخبارات، رسالے اور کتابیں ہیں اور دوسرا بڑا ذریعہ ریڈیو اور ٹی وی ہیں۔ اب انٹرنیٹ بھی اس عمل کے لیے ایک اہم آلہ کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔ مختصر یہ کہ ذرائع ابلاغ افواہیں پھیلانے میں بہت بڑا کردار ادا کرتے ہیں۔


بسا اوقات حکومتوں کے ڈس انفارمیشن سیل (DisinformationCell) بھی افواہ سازی کا کام کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اکثر حکومتیں اپنی بقا کے لیے اپنے مخالفین کے بارے میں اور لوگوں میں اپنی مخالفت کو کم کرنے کے لیے طرح طرح کی خبریں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اسی سیل(Cell)کے ذریعے گھڑ گھڑ کر لوگوں تک پہنچاتے ہیں۔ اس کے ذریعے سے حکومت عوام میں بے چینی اور اضطراب پھیلانے کا باعث بنتی ہے۔ یہ ڈس انفارمشن سیل (Disinformation Cell) باقاعدہ پلاننگ کے تحت افواہ گھڑتے ہیں اور پھر اس افواہ کو پھیلانے سے پہلے اس کے اثرات کے بارے میں غور کرتے ہیں کہ کیا یہ عوام پر اثر انداز بھی ہوگی یا نہیں۔ یہ طریقہ کار اس قدر منظم ہے کہ لوگوں کو یہ یقین دلا دیا جاتا ہے کہ یہ افواہ سچی ہے۔ دراصل ان ڈس انفامیشن سیل کے ذریعے سے حکومتیں اپنے مخصوص مفادات اور مقاصد حاصل کرتی ہیں۔



بیوروکریسی کا ادارہ بھی بعض اوقات افواہ سازی میں شامل پایا گیا ہے۔ خاص طور پر غیرمعمولی حالات تو بیوروکریسی کے لیے نہایت مددگار ہوتے ہیں بیوروکریسی کے ادارے پر کوئی دباؤ نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کے راہ میں جلد کوئی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے اور وہ اس سے پورا پورا فائدہ اٹھاتا ہے۔



بعض اوقات حکومتیں اپنی خارجہ یا داخلہ پالیسی کی وجہ سے باقاعدہ پلاننگ کے تحت افواہ سازی کا کام انجام دیتی ہیں۔


بعض اوقات دشمن بھی ڈس انفارمیشن سیل کے ذریعے سے افواہیں پھیلاتے ہیں اور اپنے مخصوص مقاصد حاصل کرتے ہیں خاص طور پر جنگی حالات میں تو دشمن کی حکمت عملی (Strategy) ہی یہ ہوتی ہے کہ کس طرح دشمن کی صفوں میں بے چینی اور اضطراب پھیلا کر کامیابی حاصل کی جائے اور عوام کے حوصلے پست ہو جائیں اور انھیں آگے بڑھنے میں مشکلات کا سامنا نہ ہو۔ اس قسم کی ایک مثال 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں لاہور پر بھارتی قبضے کی افواہ ہے۔ دشمن نے اپنے تمام ذرائع ابلاغ اور تمام تر قوت استعمال کر کے ایک خبر کی تشہیر اس انداز سے کی کہ بی۔ بی۔ سی (B.B.C)جیسے حساس اور موثر ذریعے نے بھی یہ خبر نشر کر دی کہ "بھارتی فوج نے لاہور پر قبضہ کر لیا ہے۔" ذرا تصور کیجئے اس خبر نے اس وقت جانے کتنے لوگوں کے اعصاب شل کیے ہوں گے۔ ذرا اندازہ لگائیے اس ذہنی کیفیت کا جس سے پاکستانی عوام کو گزرنا پڑا۔ دشمن نے کس قدر چالاکی سے اس افواہ کی خبر بنائی۔ یہ سب صرف اور صرف اسی سیل(Cell)کی وجہ سے ممکن ہو سکا۔



ڈس انفارمیشن سیل کے بیرونی رابطے بھی ہوتے ہیں۔ یہ سیل حکومتوں، سیاسی جماعتوں اور خفیہ ایجنسیوں کے لیے کام کرتے ہیں۔ حکومتوں کے قائم کردہ جاسوسی اداروں کا کام افواہ سازی بھی ہوتا ہے۔ حکومت کے ایما پر اپنی کارکردگی کی خاطر یہ ادارے افواہیں پھیلاتے ہیں۔



گذشتہ دنوں مرغیوں میں برڈ فلو کی بیماری اور آٹے کی قلت جیسی اہم افواہیں گردش میں رہیں، مرغی میں برڈ فلو کی بیماری والی افواہ نے تو پولٹری فارمنگ کی صنعت کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا اور کمال تو یہ ہوا کہ ہمارے حکومتی ادارے بھی ابتدا میں اس افواہ کی تصدیق کے عمل کا ایک پرزہ بنتے گئے۔ اسی طرح آٹے کی قلت کی افواہ نے بلیک مارکیٹنگ کرنے والوں کے وارے کے نیارے کر دیے۔ آٹے کی قیمت میں10.5روپے سے 14.5 روپے تک کا اضافہ ہوگیا اور صورت حال واضح ہونے پر قیمتیں پھر اپنی اصل جگہ پر لوٹ آئیں۔ یہی حال دیگر بہت سی اشیائے خوردونوش کا ہے۔گویا معاشی فوائد یا معاشی مسابقت بھی افواہیں پھیلانے کا ایک مؤثر ذریعہ بنتے ہیں۔


اگر گھنے جنگل میں کسی درخت کو آگ لگا دی جائے تو یہ آگ دیکھتے ہی ایک سے دوسرے اور پھر تیسرے درخت سے ہوتی ہوئی پورے کے پورے جنگل کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ بالکل یہی مثال افواہ کی ہے۔ افواہ بھی جنگل کی آگ کی طرح پورے کے پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔



میکیاویلی سیاست کے اس دور جدید میں کہ جب نہ صرف افراد بلکہ پوری کی پوری قومیں بھی "جھوٹ کو اتنا پھیلاؤ کہ وہ سچ معلوم ہونے لگے" کے "نسخہ کیمیا" پر عمل پیرا ہوں، یہ صنعت یعنی "صنعت افواہ سازی" اپنے پورے عروج پر ہے۔ افواہ پھیلا کر فرد یا قوم اگرچہ اپنے مخصوص مقاصد حاصل کر کے خوشی اور مسرت کا اظہار کرتی ہیں۔ لیکن دراصل یہ اخلاقی گراوٹ، اپنے مقصد کے سچے نہ ہونے کا یقین کا درجہ رکھتی ہے۔ اس عمل سے ایک طرف ایک انسان کے اندر جھوٹ اپنی جڑیں گہری کرتا چلا جاتا ہے جو بالآخر دل زندہ کو دل مردہ میں تبدیل کرنے کا سبب بن جاتا ہے اور اس طرح بالآخر افواہ پھیلانے والا فرد، گروہ یا قوم اخلاقی پستی کے اس درجہ پر پہنچ جاتی ہے، جہاں سے اس کا زوال شروع ہو جا تا ہے۔
__________________



Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
Sponsored Links

  #2  
Old 01-30-2007, 12:08 PM
Muskaan's Avatar
Moderator
Golden Member
 
Join Date: Oct 2006
Location: ~Home Sweet Home~
Posts: 6,883
Thanks: 74
Thanked 26 Times in 18 Posts
Most Innocent Member 
Total Awards: 1 (more» ...)
Default Re: ** افواہ سازی کی صنعت **

Great Post !!
__________________
THINGS HAVE BEEN CHANGED !!!!


أكرهك ' حقا انا أفعل
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
  #3  
Old 01-31-2007, 09:15 AM
Zymal's Avatar
Platinum Member
 
Join Date: Jun 2006
Location: Pakistan
Posts: 10,631
Thanks: 170
Thanked 87 Times in 63 Posts
Most Contest Winner Most Active Member Best Avatar & Signature 
Total Awards: 3 (more» ...)
Lightbulb Re: ** افواہ سازی کی صنعت **

gr8 info
__________________
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
  #4  
Old 01-31-2007, 10:42 AM
sohno4u's Avatar
Super Member
 
Join Date: Jun 2006
Location: Dhump State
Posts: 16,621
Thanks: 1
Thanked 55 Times in 43 Posts
Special Performance Award Top Thread Starter 
Total Awards: 2 (more» ...)
Default Re: ** افواہ سازی کی صنعت **

Very nice info,
__________________
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
Reply

Bookmarks


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
Thread Tools
Display Modes

Posting Rules
You may not post new threads
You may not post replies
You may not post attachments
You may not edit your posts

BB code is On
Smilies are On
[IMG] code is On
HTML code is Off
Trackbacks are On
Pingbacks are On
Refbacks are Off


All times are GMT +1. The time now is 10:13 PM.

Online Games | Online Videos | Funny Blog | Short Jokes | Teen Chat | Multi Msn

Powered by vBulletin® Version 3.7.4
Copyright ©2000 - 2008, Jelsoft Enterprises Ltd.

1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 24 25 26 27 28 29 30 31 32 33 34 35 36 37 38 39 40 41 42 43 44 45 46 47 48 49 50 51 52 53 54 55 56 57 58 59 60 61 62 63 64 65 66 67 68 69 70 71 72 73 74 75 76 77 78 79 80 81 82 83 84 85 86 87 88 89 90 91 92 93 94 95 96 97 98 99 100 101 102 103 104 105 106 107 108 109 110 111 112 113 114 115 116 117 118 119 120 121 122 123 124 125 126 127 128 129 130 131 132 133 134 135 136 137 138 139 140 141 142 143 144 145 146 147 148 149 150 151 152 153 154 155 156 157 158 159 160 161 162 163 164 165 166 167 168 169 170 171 172 173 174 175 176 177 178 179 180 181 182 183 184 185 186 187 188 189 190 191 192 193 194 195 196 197 198 199 200 201 202 203 204 205 206 207 208 209 210 211 212 213 214 215 216 217 218 219 220 221 222 223 224 225 226 227 228 229 230 231 232 233 234 235 236 237 238 239 240 241 242 243 244 245 246 247 248 249 250 251 252 253 254 255 256 257 258 259 260 261 262 263 264 265 266 267 268 269 270 271 272 273 274 275 276 277 278 279 280 281 282 283 284 285 286 287 288 289 290