خالہ کا رتبہ
فتح مکہ سے پہلے جب آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم عمرہ کرنے مکہ گئے تو واپسی پر آپ کے چچا حضرت حمزہ کی بیٹی عمارہ آپ کے پیچھے لپکی۔ وہ آپ کے ساتھ مدینے جانا چاہتی تھی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا، آپ سید الشہدا حمزہ رضی اللہ عنہ کی نشانی کو مشرکوں میں کیوں چھوڑے جا رہے ہیں؟ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے بھی بچی کو لے جانے پر اصرار کیا کیوں کہ وہ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے اسلامی بھائی اور ان کے بعد ان کے کنبے کے نگران تھے۔ مدینے پہنچ کر حضرت علی، حضرت زید اور حضرت جعفر رضی اللہ عنہما میں جھگڑا ہوگیا۔ وہ تینوں بچی کو اپنے پاس رکھنا چاہتے تھے اور اپنا اپنا رشتہ جتا رہے تھے۔ جب حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ بچی کی خالہ اسماء بنت عمیس میری بیوی ہے تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بچی ان کو سونپ دی اور فرمایا، خالہ ماں ہی کی طرح ہوتی ہے چنانچہ بچی اپنی خالہ کے پاس رہنے لگی۔
ایک بار ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا، میں نے ایک بڑا گناہ کر دیا ہے۔ کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ آپ نے پوچھا، کیا تمھاری ماں ہے؟ اس نے کہا نہیں! پھر آپ نے دریافت فرمایا، کیا تمھاری خالہ ہے؟ اس نے کہا، ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، خالہ سے حسن سلوک کرو۔
قرآن مجید میں رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی بہت تاکید آئی ہے۔ اسے بڑی نیکیوں میں شمار کیا گیا ہے۔ رشتہ داروں میں بالکل قریبی ہوتے ہیں اور دور کے بھی۔ خالہ ماں کی بہن ہونے کی وجہ سے بچوں کے بہت قریب ہوتی ہے۔ اسے اپنی بہن کے مزاج کا علم ہوتا ہے اور اس کے طریقۂ تربیت سے واقف ہوتی ہے۔ بچے بھی خالہ کے سامنے اپنا مدعا بیان کرنے میں آسانی محسوس کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ماں کی غیر موجودگی میں خالہ کو اس کے قائم مقام قرار دیا۔
خالہ کی طرح ہر رشتے کی اپنی اہمیت اور خصوصیت ہوتی ہے اور ہمارے دین میں رشتہ داروں کے حقوق پر بہت زور دیا گیا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ فرداً فرداً ہر رشتے دار کا حق پہچانیں اور اسے ادا کرنے کی کوشش کریں۔
٭٭٭