![]() |
| |||||||
| Notices |
| |
Geo News Watch Live Sms Messages Collection! ChatDD Blog Tech & Entertainment
|
![]() |
| | Thread Tools | Display Modes |
|
#1
| ||||
| ||||
| بسم اللہ الرحمٰن الرحیم برائی کو ہاتھ سے روکنا اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔۔۔وبعد!۔ "جیسے ہی کار ہوٹل کے سامنے جا کر رکی، ہم درختوں کے پیچھے سے نکلے اور کار پر حملہ کردیا۔ ڈنڈے مار مار کے سارے شیشے توڑ دیے۔ گاڑی چلانے والی لڑکی چیخیں مارتی ہوئی گاڑی چھوڑ کر بھاگ گئی۔ گاڑی کا حلیہ جب اچھی طرح بگڑ گیا تو ہم لمحوں میں درختوں کے پیچھے ایسے غائب ہو گئے جیسے یہاں کوئی تھا ہی نہیں۔۔۔۔۔ تھوڑی دیر کے بعد ایک اور کار آئی۔ اس کار میں چار لڑکے بیٹھے ہوئے تھے۔ انھوں نے اندر اونچی آواز میں گانے لگائے ہوئے تھے۔ موسیقی اور وہ بھی اتنی اونچی آواز میں، اس چیز نے ہمیں اور غصہ دلا دیا۔ ہم نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا، سب نے فو راً حملہ کرنے کا اشارہ کیا۔ دوسرے ہی لمحے ہم نے اپنے ڈنڈوں سے اس گاڑی کے بھی سارے شیشے توڑ دیے۔ کار میں بیٹھے لڑکے بھی نوجوان تھے۔ وہ فوراً گاڑی سے نکلے اور ہمارا مقابلہ کیا۔ ہم نے ایسا ہاتھ چلایا کہ چند لمحوں بعد وہ لڑکے زخمی ہو کر سٹرک پر تڑپنے لگے۔" ظریف صاحب کا بیٹا محمود بڑے جوش کے ساتھ اپنی یہ کارروائی سنا رہا تھا۔ ظریف صاحب بڑے فخر کے ساتھ کبھی اسے دیکھتے اور کبھی تعریف طلب نظروں سے علامہ صاحب کو دیکھتے۔ جب کہ علامہ صاحب اور پروفیسر صاحب بڑی حیرت اور افسوس کے ساتھ یہ کہانی سن رہے تھے۔ جب محمود نے اپنا سارا کارنامہ سنا دیا تو ظریف صاحب بولے: "کیوں علامہ صاحب، دیکھا آپ نے "مودی" کے اندر دین کی کتنی غیرت ہے۔" علامہ صاحب اور پروفیسر انور کمال نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ پھر علامہ صاحب بولے: " محمود بیٹے یہ بتائیں کہ آپ نے ان لوگوں کی گاڑیوں کے شیشے کیوں توڑے؟" "اس لیے کہ وہ ہیپی نیو ائیر کے ایک فنکشن میں جا رہے تھے۔ وہاں میوزک بجنا تھا۔ ڈانس ہونا تھا۔ شراب پی جانی تھی۔ اور بڑی بے حیائی ہونی تھی۔" "یہ تو مجھے معلوم ہے۔ مجھے یہ بتائیں کہ آپ نے ان لوگوں کی گاڑیوں پر حملہ کیوں کیا؟" "اس لیے کہ وہ اس فنکشن میں شریک نہ ہو سکیں۔ اور اگلے سال ایسے فنکشن میں شرکت کا سوچیں بھی نہ۔" "اچھا یہ بتائیں کہ آپ نے یہ سب کچھ دینی کام سمجھ کر کیا؟" "جی بالکل! ہمارے پیغمبر نے ہمیں یہ حکم دیا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص کوئی برائی دیکھے تو اسے چاہیے کہ وہ اسے ہاتھ سے مٹائے۔ پھر اگر اس کی ہمت نہ ہو تو زبان سے۔ اور اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو دل سے ناگوار سمجھے۔ اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔ ہیپی نیوائیر منانا مغربی رسم ہے۔ ہمارا سال تو محرم سے شروع ہوتا ہے۔ ہمارا اس سال سے کوئی تعلق نہیں۔ پھر موسیقی حرام ہے۔ شراب حرام ہے۔ بے حیائی سے منع کیا گیا ہے۔ اس لیے ہم اس برائی کو ہاتھ سے روک کر ایمان کا پہلا درجہ حاصل کرتے ہیں۔" ظریف صاحب نے ایک بار پھر اکڑی گردن کے ساتھ علامہ صاحب کی طرف تعریف طلب نظروں سے دیکھا۔ علامہ صاحب نے محمود سے اگلا سوال کیا: "اچھا یہ بتائیں کہ مکہ میں جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت دین کا کام شروع کیا تو وہاں شرک ہو رہا تھا؟" "جی ہاں، شرک ہو رہا تھا۔ اور وہ لوگ بڑے فخر کے ساتھ شرک کرتے تھے۔ انھوں نے بیت اللہ کو بت کدہ بنا دیا تھا۔" "شرک کیسی برائی ہے؟" "ظاہر ہے کہ شرک بہت بڑی برائی ہے بلکہ سب سے بڑی برائی ہے۔" "اس وقت مکہ میں شرک کے علاوہ اور برائیاں بھی پائی جاتی تھیں؟" "جی ہاں! وہاں بچیوں کو زندہ دفن کر دیا جاتا تھا۔ شراب، جوا، سود اور بھی بہت سی برائیاں تھیں۔" "مکہ میں حضورۖ جب دعوت دین کا کام کر رہے تھے تو اہل مکہ کا رویہ کیسا تھا؟" "بہت ظالمانہ۔ اکثر لوگ آپ پر ایمان نہ لائے بلکہ آپ پر بہت ظلم کیے۔ آپ پر قاتلانہ حملے کیے۔ اور جو لوگ ایمان لائے تھے ان پر ظلم کیے۔ بعض کو توجان سے مار دیا۔" "یعنی بہت سنگین صورت حال تھی!" "جی ہاں، بہت۔" "حضورۖ نے مکہ میں کتنے سال تبلیغ کی؟" "تیرہ سال۔" "ان تیرہ برسوں میں آپ نے کسی برائی کو ہاتھ سے روکا؟" یہ سوال سنتے ہی محمود نے کوئی جواب دینے کے لیے فوراً منہ کھولا، مگر منہ سے کوئی لفظ نہ نکل سکا۔ وہ ہکا بکا ہوگیا۔ اس نے ذہن پر بہت زور دیا کہ کوئی ایک واقعہ ایسا یاد آجائے جس میں حضور نے یا صحابہ نے برائی کو ہاتھ سے روکا ہو۔ مگر وہ اس میں بری طرح ناکام ہوا۔ علامہ صاحب دوبارہ بولے: "ظاہر ہے کہ نہیں۔ حضور اور آپ کے جانباز صحابہ نے مکہ میں اتنی بڑی بڑی برائیاں پائیں مگر کسی برائی کو ہاتھ سے نہیں روکا- اب آپ یہ بتائیے کہ کیا معاذاللہ حضور اور صحابہ ایمان کے پہلے درجے پر نہیں تھے؟" علامہ صاحب کا یہ سوال سنتے ہی محمود کے ذہن کو جھٹکا لگا۔ وہ اندر سے ہل گیا۔ اس کا چہرہ لٹک گیا اور اس کا رنگ بدل گیا۔ علامہ صاحب کے اس سوال پر سبھی لوگ حیران اور پریشان تھے۔ ظریف صاحب اور محمود کا منہ ابھی تک کھلا ہوا تھا۔ "جی جواب دیجیے۔۔۔۔۔ کچھ تو بولیے۔" علامہ صاحب جان بوجھ کر خود جواب نہیں دے رہے تھے۔ مقصد یہ تھا کہ لوگ اس مسئلے کی سنگینی کو سمجھیں۔ اس پر سوچیں۔ اس نکتے کو اہمیت دیں۔ آخر محمود بے بسی کے ساتھ بولا: "میری سمجھ میں تو کچھ نہیں آرہا۔ ایک طرف حضور کا عمل یہ ہے اوردوسری طرف حضور کا فرمان ہے کہ برائی کو دیکھو تو ہاتھ سے مٹا دو۔" "محمود بیٹے حضور ہی کا نہیں، ہر نبی کا عمل یہی ہے کہ اس نے اس وقت تک کسی بڑی سے بڑی برائی کو ہاتھ سے نہیں مٹایا جب تک انہیں کسی علاقے میں حکومت نہیں مل گئی۔" "یہ کیا بات ہوئی!" "ہاں حکومت۔۔۔۔۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے، جس کی کوئی شخص تردید نہیں کر سکتا۔ اگر ہر شخص معاشرے میں برائی کو بزور خود مٹانا شروع کر دے تو اس سے وہ برائی ختم نہیں ہو گی بلکہ کچھ اور برائیاں پیدا ہو جائیں گی۔ بدترین فساد پیدا ہو جائے گا۔ خانہ جنگی کا ماحول بن جائے گا۔ آپ اندازہ نہیں کر سکتے اس سے کتنی غارت گری ہو سکتی ہے۔ اصل میں حکومت جب برائی کا خاتمہ کرتی ہے تو اس سے کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوتا۔ اس کے پاس محکمے ہوتے ہیں۔ قوت ہوتی ہے۔ اس سے کوئی ٹکرانے کی جرأت نہیں کر سکتا۔" "مگر بعض اوقات جس چیز کو ہم برائی سمجھ رہے ہوتے ہیں اسے حکومت برائی نہیں سمجھتی، اس صورت حا ل میں ہمیں کیا کرنا چاہیے؟" پروفیسر انور کمال نے پوچھا: "اس صورت حال میں حکومت کو قائل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہ نہیں کہ اس برائی کو خود ختم کرنا شروع کر دیں۔" "لیکن علامہ صاحب، محمود کاسوال اپنی جگہ ابھی قائم ہے کہ حدیث میں برائی کو دیکھتے ہی ہاتھ سے مٹانے کی ہدایت ہے مگر انبیا کا عمل اس معاملے میں مختلف ہے؟" "دیکھیے بات یہ ہے کہ قرآن مجید میں انبیاے کرام کا یہ عمل بالکل واضح ہے کہ وہ حکمران بنے بغیر برائی کو ہاتھ سے نہیں روکتے۔ ہمیں حدیث کو قرآن کی روشنی میں سمجھنا چاہیے۔ اس لحاظ سے غور کریں تو حدیث کا مطلب بنتا ہے کہ اگر کوئی اپنے اختیار کے دائرے میں برائی دیکھے تو اسے ہاتھ سے روکے۔ یعنی حکومت کا یہ دائرہ پورا ملک ہے، ماں باپ کا یہ دائرہ ان کے بچے، خاوند کا یہ دائرہ اس کی بیوی۔ اس میں بھی ضروری ہے کہ پہلے حکمت اور نصیحت سے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی جائے۔ جب کوئی چارہ نہ رہے تب یہ کام کیا جائے۔" "واقعی۔۔۔۔۔اس دائرے میں کوئی شخص برائی کو ہاتھ سے روکے تو کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوتا۔ اور اگر ہمسائے کے بچے کو سگریٹ پیتا دیکھ کر میں اسے تھپڑ ماروں تو اس سے جھگڑا ہو سکتا ہے یعنی محمود بیٹے نے جو جہاد فرمایا تھا وہ صحیح نہیں ہے۔" پروفیسر انور کمال نے سمجھنے کے انداز میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔ "جی ہاں، کسی طرح صحیح نہیں ہے۔ انھیں توبہ کر نی چاہیے جن لوگوں کو پریشان کیا ہے ان سے معافی مانگی چاہیے اور ان کے نقصان کی تلافی کرنی چاہیے اور تہذیب، ترغیب اور دلیل کے ساتھ ان کی اصلاح کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس سے بڑھ کر ان کی کوئی ذمہ داری ہے اور نہ حق۔" علامہ صاحب نے بڑے قطعی لب و لہجے میں کہا۔ اس وقت محمود اور ظریف صاحب دونوں شرمندگی سے نظریں جھکائے ہوئے تھے۔ وسلام۔۔۔
__________________ ![]() ![]() |
| Sponsored Links |
| |
|
#3
| ||||
| ||||
| jazaak Allah
__________________ Memories Are Never Completely Erased... |
![]() |
| Bookmarks |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| Thread Tools | |
| Display Modes | |
| |