بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔۔۔وبعد!۔
کتنی عجیب بات ہو گی اگر میں یہ بیان کرنے لگوں کہ دو اور دو چار ہوتے ہیں، سورج مشرق سے نکلتا ہے، تخریب سے تعمیر ممکن نہیں۔۔۔۔ لیکن بعض دفعہ حالات اتنے عجیب ہو جاتے ہیں، گھبراہٹ انسان پر ایسے طاری ہو جاتی ہے، خوف دلوں پر یوں مسلط ہو جاتا ہے، جوش اور جنون دماغ کو اس قدر ماؤف کر دیتا ہے کہ انسان واقعی یہ بھول جاتا ہے کہ دو اور دو چار ہوتے ہیں۔۔۔۔ فلسطینیوں اور بھارتی مسلمانوں پر ہونے والے ظلم کے بعد ہم مسلمان جس بے حسی، بے حکمتی اور حماقت کا مظاہرہ کر رہے ہیں وہ انتہائی خوف ناک اور عبرت انگیز ہے۔ ہمارا رویہ ماضی میں زوال پذیر ہونے والی قوموں سے قطعی مختلف نہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ہم واقعی دو اور دو چار والی بات بھول چکے ہیں۔ اسی لیے تو غور ہی نہیں کر رہے کہ ان گنت ہو کر بھی چند بدمعاش یہودیوں اور بزدل ہندوؤں کے ہاتھوں ظلم کا شکار ہو رہے تو لازمی بات ہے کوئی خوف ناک غلطی کر رہے ہیں۔ کاش ہم اپنے اعمال، اپنے عقیدے، اپنے ایمان کو پرکھیں کہ ضرور اس میں کوئی گڑ بڑ ہو گئی ہے۔ کوئی چیز ہم بھول گئے ہیں، کسی غلط فہمی میں پڑ چکے ہیں، ورنہ وہی رحمان و رحیم پروردگار آخر ہم پر رحم کیوں نہیں کر رہا؟ ہم پر رحمت کے فرشتے کیوں نہیں بھیج رہا جو اس سے پہلے بھیجا کرتا تھا۔۔۔۔ کل ہم قلیل ہو کر غالب تھے اور آج کثیر ہو کر بھی پستیوں کی گہرائیوں میں کیوں پڑے ہوئے ہیں؟ لیکن ہمارے دماغ سے یہ بات نکل ہی نہیں رہی کہ تخریب سے ہمیشہ تباہی آتی ہے تعمیر نہیں ہو سکتی، بغیر تیاری کی لڑائی سے ذلت حاصل ہوتی ہے، فتح نہیں۔۔۔۔ کاش ہم یہ سمجھ لیں کہ ہم دنیا کو اس وقت تک نہیں بدل سکتے جب تک اپنے آپ کو نہ بدل دیں۔۔۔۔ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ہمارے اپنے گھر میں تو اسلام نظر نہ آئے لیکن ہم اسے پورے ملک، پوری دنیا میں نافذ کرنے کے لیے بے قرار ہوں۔۔۔۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے ہم اپنے لیے تو دو اور دو پانچ چاہتے ہوں اور دوسرے کے لیے چار!۔۔۔
وسلام۔۔۔