راولپنڈی،سرکاری ادارے کی بس پر خودکش حملہ،5افراد جاں بحق،29زخمی:
راولپنڈی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔2جولائی۔2009ء) راولپنڈی کینٹ کے علاقے چوہڑ چوک میں سرکاری ادارے کی بس پر خودکش حملے کے نتیجے میں پانچ افراد جاں بحق جبکہ 29 زخمی ہوگئے جن میں سے 5 کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے ‘ حملہ آور جو ایک موٹر سائیکل پر سوار تھا چوہڑ چوک کا سگنل بند ہونے پر رکی ہوئی سرکاری بس کے ڈیزل ٹینک کے ساتھ ٹکرایا جس سے زوردار دھماکہ ہوا‘ دھماکہ سے بس کے ساتھ کھڑی 7 دیگر گاڑیاں بھی تباہ ہوگئیں‘ دھماکہ کے بعد خودکش حملہ آور کے جسم کے مختلف اعضاء اردگرد پھیل گئے جن کو بعد ازاں سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں نے جائے وقوعہ سے اکٹھا کیا۔جمعرات کی سہ پہر 4 بج کر 19 منٹ پر سرکاری ادارے کی بس اسلام آباد سے بذریعہ پشاور روڈ مندرہ جارہی تھی کہ چوہڑ چوک میں خودکش حملے کا نشانہ بن گئی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حکام نے دھماکے میں 6 افراد کے جاں بحق ہونے کا دعویٰ کیا تھا تاہم پولیس نے اس کی تردید کی ہے ۔ ایڈیشنل انسپکٹر جنرل راولپنڈی رینج ناصر خان درانی نے بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ چوہڑ چوک میں ہونے والے دھماکہ خودکش حملہ تھا‘ جس میں ایک شخص جاں بحق جبکہ 29 زخمی ہوگئے ۔ انہوں نے کہا کہ بعض ذرائع نے اس سے قبل دھماکے میں 6 افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاع دی تھی جو حقائق کے منافی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ ریسکیو 1122‘ سول ڈیفنس کے علاوہ آرمی کی خصوصی ٹیمیں بھی جائے وقوعہ پر پہنچیں اور وہاں سے مختلف شواہد حاصل کئے ۔ انہوں نے کہا کہ راولپنڈی میں حساس مقامات پر حملے کا خدشہ تھا جس پر ہم نے سیکیورٹی ہائی الرٹ کردی تھی جس پر اس واقعہ میں ملوث لوگوں نے سابقہ پالیسی کے تحت چلتی ہوئی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ دھماکہ کی جگہ سے خودکش حملہ آور کا موٹر سائیکل‘ ٹانگیں اور جسم کے دیگر اعضاء بھی برآمد ہوئے ہیں۔ حملہ آور کے اعضاء ڈی این اے ٹیسٹ کے لئے لاہور بھیجے جائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ مختلف سیکیورٹی خطرات پہلے سے موجود تھے ‘ چوہڑ چوک سرکاری بس پر ہونے والا خودکش حملہ اتنا شدید تھا کہ ساتھ گزرنے والی 7 گاڑیاں اس کی زد میں آنے سے تباہ ہوگئیں جبکہ اردگرد کی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور خوف و ہراس میں مبتلا لوگ گھروں سے باہر نکل آئے ۔ریسکیو 1122 کے مطابق زخمی ہونے والوں میں محمد عمر‘ ندیم احمد‘ محمد اسحاق‘ محرم خان‘ شفقت ایوب‘ ایوب ستار‘ طاہر رشید‘ اظہر‘ محمد ارشد‘ محمد جہانگیر‘ ساجد‘ مختار‘ خدیجہ‘ عرفان اور شیخ مبارک شامل ہیں۔ سٹی ٹریفک پولیس راولپنڈی نے خودکش حملے کے بعد پشاور روڈ کو دونوں اطراف سے بند کردیا۔ خودکش حملے کی اطلاع ملتے ہی سٹیشن کمانڈر راولپنڈی بریگیڈیئر سجاد اعظم‘ ڈی سی او راولپنڈی امداد اللہ بوسال‘ ایڈیشنل آئی جی راولپنڈی رینج ناصر خان درانی‘ سی پی او راوٴ محمد اقبال کے علاوہ پاک فوج کے مختلف حکام جائے وقوعہ پر پہنچ گئے ۔