Chat DD Forums

Go Back   Chat DD Forums > Info Zone > Information Center

Notices



Geo News Watch Live Sms Messages Collection! ChatDD Blog Tech & Entertainment

Get a free eMail @chatdd.com, works on MSN Messenger
Reply

**~~ 29 فروری **~~

 
Thread Tools Display Modes
  #1  
Old 02-29-2008, 06:24 AM
Farhan Ansari's Avatar
Important Member
 
Join Date: Oct 2007
Location: Pakistan, karachi
Posts: 1,579
Thanks: 18
Thanked 24 Times in 15 Posts
Best New Member 
Total Awards: 1 (more» ...)
Post **~~ 29 فروری **~~

آج 29 فروری ہے اور ہم سب کو معلوم ہے کہ جس سال 29 فروری ہو تو یہ لیپ کا سال ہوتا ہے۔ یعنی ایسا سال جس میں فروری کا مہینہ 28 کی بجائے 29 دن کا ہوتا ہے۔ گویا اس برس 356 کی بجائے تین 366 دن ہوں گے۔ عموماً یہ دن ہر چار سال کے بعد آتا ہے۔ مطلب یہ کہ جو شخص آج سے 40 سال پہلے 29 فروری کو پیدا ہوا تھا آج ماشااللہ دس سال کا ہو گیا ہے۔ اور اگر وہ نوکری کرتا ہے تو اس مہینے اسے تنخواہ بھی اب ایک دن لیٹ ہی ملے گی۔ بھئی یہ معمہ کیا ہے۔آخر فروری کا مہینہ ایک دن لمبا کیوں ہوجاتا ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ صدیوں سے انسان اس معمے کو حل کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ قدیم مصریوں نے یہ معلوم کر لیا تھا کہ زمین سورج کے گرد 365 دن میں چکر مکمل نہیں کرتی بلکہ اس سے کچھ زیادہ وقت لگاتی ہے۔ اسی لیے گزشتہ ہزار سال انسان اس کوشش میں رہا کہ کس طرح موسموں کے اوقات میں ایک مطابقت رہے اور کھیتی باڑی اور دیگر کام ایک نظام کے تحت ہو سکیں۔
زمین کا سورج کے گرد گردش کا دورانیہ 365 دنوں کا نہیں ہے بلکہ چوتھائی دن زیادہ ہے۔ یعنی کہ 365 دن، پانچ گھنٹے، 49 منٹ اور 12 سیکنڈ۔ اور چونکہ زمین سورج کے گرد گردش کرتی ہے اس لیے موسموں کی تبدیلی کا انحصار بھی زمین اور سورج کے اس گردش کے رشتے پر ہوتا ہے۔ اس لیے اگر ہر سال 365 دن رکھیں تو ہر سال چوتھائی دن کا فرق پڑنے لگتا ہے اور کیلنڈر موسموں سے دور ہونا شروع ہو جاتا ہے۔

پوپ گریگری جس نے دس دن چوری کیے
یہی وجہ تھی تقریباً 45 قبلِ مسیح میں روم کے بادشاہ جولیس سیزر نے کلینڈروں کی اصلاحات کے لیے ایک کمیشن قائم کیا جس نے فیصلہ کیا کہ ہر چار سال میں سے ایک سال 366 دنوں کا کیا جائے۔ اسی لیے جولیس سیزر کے دور میں 46 قبلِ مسیح میں 90 دن کا اضافہ کیا گیا تاکہ زرعی موسموں کا بہتر انتظام ہو سکے۔ یہ وہ سال تھا جب سال 445 دنوں کا گیا۔ جولیس سیزر نے اسے ’لاسٹ ایئر آف کنفیوژن‘ (انتشار کا آخری سال) کہا، لیکن عام لوگوں کے لیے یہ انتشار کا سال ہی تھا۔ اس میں فصل بونے کے وقت کا تو تعین ہو گیا لیکن باقی سب کچھ گڑ بڑ ہوا۔ جہاز رانی کے نظام الاوقات سے لے کر لوگوں کے درمیان قانونی معاہدوں تک۔
جولیس سیزر کی موت کے بعد ہر چار سال کے بعد ایک دن کا اضافہ کرنے کی بجائے یہ اضافہ ہر تین سال کے بعد کیا جانے لگا۔ اس طرح ایک مرتبہ پھر رومن کیلنڈر موسموں سے آگے بھاگنے لگا۔
یہ مسئلہ جولیس سیزر کے بعد آنے والے اصلاح پسند بادشاہ آگسٹس سیزر نے 8 قبلِ مسیح میں حل کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے لیپ کے تین سالوں کو سکپ کیا یا یوں کہیے کہ ان پر سے چھلانگ لگا کر ان کو پیچھے چھوڑا اور اس طرح یہ سلسلہ 16 ویں صدی تک چلتا رہا۔ یہی وجہ ہے کہ کلینڈر کے مہینوں میں آج تک جولیس سیزر اور آگسٹس کو یاد رکھا جاتا ہے۔ جولیس کو جولائی کی شکل میں اور آگسٹس کو اگست کی صورت۔

زمین کے سورج کے گرد گردش کرنے کے دورانیے میں فرق کی وجہ سے لیپ کے سال کو لایا گیا
جامعہ کراچی میں قائم انسٹی ٹیوٹ آف سپیس اینڈ پلینٹری ایسٹروفزکس کے اسسٹنٹ پروفیسر شاہد قریشی کہتے ہیں کیونکہ ہر سال زمین کے سورج کے گرد چکر لگانے کے دورانیے میں فرق ہوتا تھا اس لیے 16 ویں صدی میں پاپ گریگری نے کلینڈر میں تبدیلی کر کے یہ مسئلہ بھی حل کرنے کی کوشش کی۔
ان کے مطابق سورج کے گرد زمین کا اصل دورانیہ 365.25 نہیں ہے بلکہ 365.24 ہے۔ چناچہ اگر ہر سال ایک دن کا اضافہ کیا جائے گا تو کچھ سالوں میں موسم اپنے وقت سے دور ہو جائیں گے۔ مثلاً مون سون روایتی مہینوں میں نہیں بلکہ ہوتے ہوتے نومبر دسمبر میں آنے لگے گا۔ تو اس بات کو مدِ نطر رکھتے ہوئے 16 ویں صدی میں پاپ گریگری نے ایک کمیشن قائم کیا جس میں یہ طے پایا کہ ہر 400 سال میں 100 لیپ ائیر ہونے کی بجائے 97 لیپ ائیر ہوں گے۔ اس سے قبل 45 قبلِ مسیح سے لے کر 16 ویں صدی تک ہر چار سال کے بعد ایک لیپ کا سال ہوتا تھا۔
شاہد قریشی کہتے ہیں اس لیے یہ کہنا بھی درست نہیں ہے کہ ہر چوتھا سال لیپ ایئر ہوتا ہے۔
لیپ کا سال بنانے کے اور بھی فوائد ہیں۔ مثلاً اب ہمیں پتا ہے کہ سال کا لمبا دن ہمیشہ 21 جون کو ہو گا، سب سے چھوٹا دن 21 دسمبر کو ہو گا، اور برابر کے دو دن 21 مارچ اور 21 ستمبر کو ہی ہوں گے۔ تو اس لیے لیپ کے سال کی وجہ سے سورج اور زمین کی ہیرا پھیری کو کوئی ترتیب مل جاتی ہے اور انتشار نہیں پھیلتا۔ اگر لیپ کے سال میں تبدیلی نہ کی جاتی تو ہر 400 سال میں واضح فرق سامنے آتا چلا جاتا۔ اب انسانوں میں ہو نہ ہو کھتی باڑی اور فصلیں اگانے کے لیے موسموں کے اوقات میں ضرور مطابقت پیدا ہو گئی ہے اور ہزاروں سال تک اس میں تبدیلی آنے کا امکان نہیں ہے۔
__________________

x´¨)
¸.·´¸.·´¨) ¸.·*¨).
(¸.·´ (¸.·´ .·´ __________
.·´ ¸.·*`·-» «¤º
فرحان
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
Sponsored Links

  #2  
Old 02-29-2008, 11:15 AM
MJKT's Avatar
Star Member
 
Join Date: Nov 2007
Location: Islamic Republic Of Pakistan
Posts: 5,354
Thanks: 348
Thanked 205 Times in 160 Posts
Default Re: **~~ 29 فروری **~~

good information
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
Reply

Bookmarks


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
Thread Tools
Display Modes

Posting Rules
You may not post new threads
You may not post replies
You may not post attachments
You may not edit your posts

BB code is On
Smilies are On
[IMG] code is On
HTML code is Off
Trackbacks are On
Pingbacks are On
Refbacks are Off


All times are GMT +1. The time now is 06:07 AM.

Online Games | Online Videos | Funny Blog | Short Jokes | Teen Chat | Multi Msn

Powered by vBulletin® Version 3.7.4
Copyright ©2000 - 2008, Jelsoft Enterprises Ltd.

1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 24 25 26 27 28 29 30 31 32 33 34 35 36 37 38 39 40 41 42 43 44 45 46 47 48 49 50 51 52 53 54 55 56 57 58 59 60 61 62 63 64 65 66 67 68 69 70 71 72 73 74 75 76 77 78 79 80 81 82 83 84 85 86 87 88 89 90 91 92 93 94 95 96 97 98 99 100 101 102 103 104 105 106 107 108 109 110 111 112 113 114 115 116 117 118 119 120 121 122 123 124 125 126 127 128 129 130 131 132 133 134 135 136 137 138 139 140 141 142 143 144 145 146 147 148 149 150 151 152 153 154 155 156 157 158 159 160 161 162 163 164 165 166 167 168 169 170 171 172 173 174 175 176 177 178 179 180 181 182 183 184 185 186 187 188 189 190 191 192 193 194 195 196 197 198 199 200 201 202 203 204 205 206 207 208 209 210 211 212 213 214 215 216 217 218 219 220 221 222 223 224 225 226 227 228 229 230 231 232 233 234 235 236 237 238 239 240 241 242 243 244 245 246 247 248 249 250 251 252 253 254 255 256 257 258 259 260 261 262 263 264 265 266 267 268 269 270 271 272 273 274 275 276 277 278 279 280 281 282 283 284 285 286 287 288 289 290